مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 60 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 60

مقام خاتم النت اور احمدیت کی اندھی مخالفت میں مولانا محمد قاسم صاحب علیہ الرحمۃ کی طرف خاتم النبیین کے معنوں میں متناقض باتوں کا قائل ہونا منسوب کر کے ان کی علمی شان پر دھبہ نہ لگائیں اور انہیں اجتماع النقیضین کا قائل قرار نہ دیں۔خاتمیت مرتبی کو ان کے نزدیک خاتمیت زمانی لازم ہے اور خاتمیت مرتبی خاتمیت زمانی کا ملزوم ہے اور ملزوم اور لازم ایک دوسرے سے تناقض اور تضاد نہیں رکھتے۔مگر خاتمیت مرتبی اور خاتمیت زمانی علی الاطلاق میں تناقض ہے لہذا وہ خاتمیت مرتبی کے ساتھ خاتمیت زمانی علی الاطلاق ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مطلق آخری نبی ہونے) کے قائل نہیں ہو سکتے۔کیونکہ خاتمیت زمانی علی الاطلاق ماننے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آئیندہ کے لئے خاتمیت مرتبی کے فیض سے انکار لازم آتا ہے اور خاتمیت مرتبی تو خاتم النبیین کے اصلی حقیقی اور مقدّم بالذات معنی ہیں۔یہ وصف آپ کی ذات سے الگ نہیں ہوسکتا اور اس کا انقطاع تسلیم کرنا امر محال ہے کیونکہ خاتمیت مرتبی اور خاتمیت زمانی میں ملزوم ولازم اور علت و معلول کا علاقہ ہے۔مولانا محمد قاسم صاحب فرماتے ہیں کہ آئیندہ نبی پیدا ہونے سے خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔اور خاتمیت محمدی چونکہ خاتمیت مرتبی اور خاتمیت زمانی کی جامعہ ہے لہذا مولانا موصوف علیہ الرحمۃ آئیندہ خاتمیت مرتبی کے فیض و تاثیر کو منقطع قرار نہیں دیتے۔پس خاتمیت زمانی سے اُن کی مراد یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی تشریعی اور مستقل نبی نہیں آسکتا۔اور غیر تشریعی امتی نبی کے آئیندہ خاتمیت مرتبی کے فیض سے پیدا ہونے میں تو خاتمیت محمدی میں کوئی فرق نہیں آتا۔نبوت کا گلی انقطاع ماننے کی صورت میں ضرور فرق آجاتا ہے اور مولانا موصوف کا بیان جھوٹ قرار پاتا ہے۔