مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 52 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 52

النبیین کہہ سکتے ہیں“ (or) مقام خاتم انا (حجۃ الاسلام صفحه ۳۴- ۳۵) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ جس طرح خاتم الکاملین کے ماتحت کاملین آسکتے ہیں اور ان کا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الکاملین ہونے کے منافی نہیں۔اسی طرح خاتم النبیین کے ماتحت امتی نبی کا آنا آیت خاتم النبیین کے منافی نہیں۔پس مولانا موصوف نے ٹھیک لکھا ہے کہ "بالفرض اگر بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔“ پھر تحریر فرماتے ہیں:۔( تحذیر الناس صفحہ ۲۸) (۵) ” بعد نزول حضرت عیسی کا آپ کی شریعت پر عمل کرنا اسی بات پر مبنی ہے۔ادھر رسول اللہ کا ارشاد عُلِّمْتُ عِلْمَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِيْنَ بشرط انهم اسی جانب مشیر ہے“ ( تحذیر الناس صفحه ۴ ) یعنی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے نبیوں کا علم اور بعد میں آنے والے نبی کا علم بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔پس حضرت عیسی علیہ السلام نبی اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا دین اور نیا علم نہیں لائیں گے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت اہمتی نبی ہوں گے۔