مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 21
مقام خاتم النی اور اس طرح یہ سب علماء جماعت احمدیہ سے متفق ہیں کہ مسیح موعود امتی نبی ہوگا اور امتی نبی کا آنا خاتم النبیین اور انقطاع نبوت پر دلالت کرنے والی احادیث کے خلاف نہیں۔اب ہر سلیم الفطرت یہ امر آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ جماعت احمدیہ اور علمائے امت میں مسیح موعود کی نبوت کی قسم کے بارے میں اُصولی اتفاق ہے کہ وہ اتنی بھی ہوں گے اور نبی بھی۔اور کہ اس قسم کے نبی کا آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے منافی نہیں۔پس جماعتِ احمدیہ اور ان علماء میں صرف مسیح موعود کی شخصیت کی تعیین میں اختلاف ہے۔نہ که مسیح موعود کی قسم نبوت میں۔یہ علمائے امت حضرت مسیح اسرائیلی کو امت محمدیہ کا مسیح موعود قرار دیتے ہیں۔اور جماعت احمد یہ احادیث نبویہ کے الفاظ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ اور فَامَّكُمْ مِنكُمْ کے مطابق مسیح موعود کا اُمت محمدیہ میں سے پیدا ہونا یقین کرتی ہے۔آیت خاتم النبیین میں ایک پیشگوئی دراصل آیت خاتم النبیین ایک پیشگوئی پر مشتمل ہے۔اور علمائے امت کو اُصولی طور پر اس کا یہ مفہوم مسلّم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریعی نبی یا مستقل نبی کا آنا تو آیت خاتم النبیین کے منافی ہے۔لیکن ہمتی نبی کا آنا آیت خاتم النبيين کے منافی نہیں البتہ وہ امتی نبی کے ظہور کو حضرت عیسی کے وجود میں منحصر سمجھتے ہیں۔لیکن امتی نبی کے ظہور کی پیشگوئی جو آیت خاتم النبیین میں مضمر ہے اس کی پوری حقیقت مسیح موعود کے ظہور پر ہی کھل سکتی تھی۔کیونکہ پیشگوئی کی اصل اور پوری حقیقت پیشگوئی کے وقوع پر ہی کھلتی ہے اور پیشگوئی کے ظہور سے پہلے علماء کی رائے اس بارہ میں حجت شرعی قرار نہیں دی جاسکتی کیونکہ اُمور مستقبلہ میں اجتہاد کا کوئی دخل نہیں۔