مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 247 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 247

۲۴۷ مقام خاتم ان الغرض اصطلاح میں نبوت بخصوصیت الہیہ خبر دینے سے عبارت ہے وہ دو قسم پر ہے۔ایک نبوت تشریعی جو ختم ہو گئی۔اور دوسری نبوت بمعنی خبر دادن وہ غیر منقطع ہے۔پس اس کو مبشرات کہتے ہیں اپنے اقسام کے ساتھ اس میں رویا بھی ہیں۔“ ( کواکب الدریہ صفحہ ۱۴۷ - ۱۴۸) اما راغب علیہ الرحمہ کے نزدیک اُمّتِ محمدیہ میں نبی کا امکان ! مولوی ابو الاعلیٰ صاحب مودودی کے رسالہ ختم نبوت“ کے جواب میں میں نے و علمی تبصرہ ، صفحہ ۸ تا ۱۱ میں لکھا تھا اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔أُوْلَئِكَ رَفِيقًا وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُوْلِئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِيْنَ وَحَسُنَ (سوره نساء ع ۹ آیت۷۰) ترجمہ: جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ( محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت کریں گے پس وہ اُن لوگوں کے ساتھ شامل ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے یعنی بنی صدیق شہید اور صالح اور یہ ان کے اچھے ساتھی ہیں۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ایک انسان صالحیت کے مقام سے ترقی کر کے نبوت کے مقام تک پہنچ سکتا ہے۔اگر