مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 156 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 156

(107) مقام خاتم النبيين اللہ علیہ وسلّم کے بعد اُمتی بھی ہوں گے اور نبی بھی۔چونکہ وہ حضرت عیسی کا آنا بطور امتی نبی کے ممتنع قرار نہیں دیتے۔اس لئے ان کا اس حدیث سے یہ استدلال باطل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ میرے بعد امتی نبی بھی نہیں آ سکتا۔واضح ہو کہ اس حدیث میں آئیندہ کے لئے تا قیامت امتی نبی کی نفی بیان کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود ہی نہیں بلکہ صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ آپ غزوہ تبوک میں شمولیت کے زمانہ میں آپ کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت ہارون کی طرح آپ کے خلیفہ تو ہوں گے مگر نبی نہ ہوں گے۔نہ تشریعی نبی نہ غیر تشریعی نبی۔چنانچہ ایک دوسری روایت میں غَيْرَ اَنَّكَ لَسْتَ نَبِيًّا کے الفاظ وارد ہیں۔یعنی اے علی مگر تو نبی نہیں۔(طبقات سعد جلد ۵ صفحه ۵ او مسند احمد بن حنبل) پس ان حدیثوں میں یہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ غیر تشریعی نبی کی حیثیت بھی نہیں رکھیں گے۔ان حدیثوں کا یہ منشاء ہرگز نہیں کہ قیامت تک غیر تشریعی امتی نبی کی آمد کی نفی مقصود ہے۔یادر ہے کہ حضرت ہارون غیر تشریعی مستقل نبی تھے۔لہذا اگر مولوی خالد محمود صا حب لا نبی بعدی میں قیامت تک کے لئے بعد یت زمانی مراد لیں تو پھر بھی غیر تشریعی مستقل نبی کی نفی مراد ہوگی نہ کہ امتی نبی کی نفی۔مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں بعد یت زمانی مراد ہی نہیں بلکہ بعد کا لفظ اس جگہ ”سوا“ کے معنوں میں آیا ہے۔