مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 107
ہوگی۔“ (1۔2) مقام خاتم انا (ازالہ اوہام صفحہ ۵۵۷) ہاں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی ۱۹۰۱ء سے پہلے کی تحریرات سے ظاہر ہے کہ ان تحریرات میں آپ اپنے آپ کو ایک بجزوی نبی قرار دیتے رہے ہیں مگر محدث کے معنوں میں جو کامل امتی ہوتا ہے اور ایک حد تک شان نبوت بھی رکھتا ہے۔لیکن ۱۹۰ ء کے بعد آپ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ انکشاف ہو گیا کہ آپ ہیں تو امتی نبی مگر آپ کا مقام نبوت میں محدث سے بالا تر ہے۔یہ تبدیلی حضرت مرزا صاحب کے عقیدہ نبوت میں ہمارے نزدیک بھی ثابت ہے۔اور مولوی خالد محمود صاحب کے نزدیک بھی۔مگر اس تبدیلی وو کے بعد بھی آپ نے تادم آخر کبھی مستقل یا تشریعی نبی ہونے کا ہرگز دعوی نہیں کیا۔مولوی خالد محمود صاحب نے دوسری عبارت ازالہ اوہام سے یہ پیش کی ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبریل علیہ السلام کی وحی رسالت کے ساتھ آمد ورفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ گو مضمون میں قرآن شریف سے توار درکھتی ہو پیدا ہو جائے۔جو امر مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحه ۲۹۲) مولوی خالد محمود صاحب اس عبارت کا مفہوم یہ بتاتے ہیں:۔ور کسی غیر تشریعی نبوت کا دروازہ بھی ہر گز گھلا ہو انہیں۔“ ( عقيدة الامة صفحه ۲۰) واضح ہو کہ اس عبارت کا یہ مفہوم درست نہیں بلکہ یہ عبارت بھی حضرت عیسی علیہ