مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 97 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 97

مقام خاتم السنة نتين پھر لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا کی آیت نازل ہوئی تو آپ نے مکہ اور اس کے ارد گرد کے لوگوں میں دعوت عام کر دی تو پھر اِنَّا اَرْسَلْنَاكَ كَافَّةً لِلنَّاسِ اور آیت يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا نازل ہوئی تو آپ نے اپنے اس بلند مقام کو سمجھ لیا کہ میں ساری دُنیا کو دعوت حق دینے کیلئے مامور ہوں۔اسی طرح پہلے آپ نے فرمایا۔لَا تُفَضِّلُوْنِيْ عَلَى موسى ( صحیح بخاری) کریم مجھے موسیٰ سے افضل نہ کہو۔اور جب کسی نے آپ کو خَيْرُ النَّاسِ کہا کہ آپ سب لوگوں سے افضل ہیں تو آپ نے فرمایاذَاكَ إِبْرَاهِيمُ ( صحیح مسلم ) کہ یہ مقام تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہے۔لیکن جب آپ پر آیت خَاتَمُ النَّبِيِّينَ نازل ہوئی تو آپ پر اپنی شان کے متعلق پورا انکشاف ہو گیا۔اور اس پر آپ نے فرمایا فـضـلـتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍ (مشکوۃ المصابح بحوالہ صحیح مسلم ) کہ میں چھ باتوں میں تمام نبیوں پر فضیلت دیا گیا ہوں۔ان میں سے ایک وجہ فضیلت اپنا تمام دنیا کی طرف مبعوث کیا جانا اور دوسری وجہ فضیلت خاتم النبیین قرار دیا جانا بیان فرمائی۔آیت خاتم النبیین آپ کے دعویٰ رسالت کے اٹھارہ سال بعد شہ ہجری میں نازل ہوئی تھی۔جس سے آپ انبیاء میں اپنی پوری شان اور مرتبہ سمجھ گئے۔بلکہ آپ نے اس کا اعلان بھی کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات علمیہ کے ظاہر ہونے سے پہلے اگر آپ پر موسیٰ علیہ السلام یا تمام انبیاءعلیہم السلام سے افضل ہونے کا انکشاف کر دیا جا تا تو قوم پر اس کی قبولیت گراں گزرتی۔اس لئے قوم کی ہدایت کے مصالح کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے آپ پر آپ کی اصل شان اور مرتبہ آپ پر تدریجا ظاہر فرمایا۔دشمنانِ اسلام نے جو مولوی خالد محمود صاحب کی طرح بدظنی کا مادہ رکھتے ہیں۔