مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 77
ایک حدیث نبوی میں وارد ہے:۔مقام <mark>خاتم</mark> انا كُنْتُ مَكْتُوبًا عِنْدَ اللهِ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَأَنَّ ادَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طينه (کنز العمال جلد ۶ صفحه ۱۱۲) یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حضور <mark>خاتم</mark> ال<mark>نبی</mark>ین قرار دے دیا گیا تھا حالانکہ آدم ابھی گیلی مٹی میں ہی کت پست تھا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب ا<mark>نبی</mark>اء سے پہلے <mark>نبی</mark> اور <mark>خاتم</mark> ال<mark>نبی</mark>ین قرار دیئے گئے۔لہذا آپ کی نبوت بالذات ہے اور سوا آپ کے اور <mark>نبی</mark>وں کی نبوت بالعرض ہے۔علت غائیہ ہر ایک <mark>نبی</mark> کی نبوت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔اور آپ کا <mark>خاتم</mark> ال<mark>نبی</mark>ین ہونا تمام ا<mark>نبی</mark>اء کے ظہور میں بطور علت غائیہ کے مؤثر رہا ہے۔بلکہ تمام کائنات کے ظہور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بطور علت غائیہ کے مؤثر ہیں۔پس اس لحاظ سے آپ ابو<mark>الا<mark>نبی</mark>اء</mark> ہیں۔سیاق آیت کریمہ <mark>خاتم</mark> ال<mark>نبی</mark>ین سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوالا <mark>نبی</mark>اء ہونا ظاہر ہے کیونکہ آیت کریمہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبيِّينَ (الاحزاب (۴) کے الفاظ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالغ نرینہ اولاد کا باپ ہونے کی نفی کر کے حرف لکن لا کر استدراک کرتے ہوئے رَسُوْلَ اللهِ اور خَاتَمَ النَّبِيِّينَ ہونے کے لحاظ سے آپ کو اپنے ائتنتوں اور تمام <mark>نبی</mark>وں کا معنوی باپ قرار دیا گیا ہے۔جیسا کہ مولانا محمد قاسم صاحب کی آیت ہذا کے متعلق تفسیر سے ظاہر ہے جو قبل از میں تحذیر الناس سے درج کی جاچکی ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان معنی میں <mark>خاتم</mark> ال<mark>نبی</mark>ین ہیں کہ آپ ابو <mark>الا<mark>نبی</mark>اء</mark>