مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 76 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 76

(LY) مقام خاتم السنة نتين اور کمال صالحیت صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ترک کر کے ان کمالات میں سے کوئی کمال کسی شخص کو حاصل نہیں ہوسکتا۔گویا یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے الگ رہنے والی قوموں کو ان چاروں مدارج سے محروم قرار دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ امت محمدیہ سے جو قو میں باہر ہیں ان میں سے نہ صرف یہ کہ کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا بلکہ ان میں در حقیقت کوئی شخص نہ صدّیق کا درجہ پاسکتا ہے نہ شہید کا اور نہ ہی صالح کا۔اب ان انعامات کے پانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت شرط ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا بالذات ہونا اور باقی انبیاء کی نبوت کا بالعرض ہونا حدیث نبوی صلے اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللهِ مَتى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ قَالَ وَادَمُ بَيْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ (رواه الترمذي) یعنی صحابہ نے رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ کیلئے نبوت کب واجب ہوئی۔اس پر آپ نے فرمایا اس وقت آدم ابھی روح و جسم کی درمیانی حالت میں تھا۔ایک دوسری حدیث میں وارد ہے:۔كُنتُ نَبِيًّا وَادَمُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّيْنِ کہ میں اُس وقت بھی نبی تھا جبکہ آدم ابھی پانی اور مٹی کی درمیانی حالت میں تھا۔