مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 71
(41) مقام خاتم ۵- وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ (بنی اسرائیل ۸۷) کتاب بانی دارالعلوم دیو بند مصنفہ ابوالزاہد سرفراز مکتبہ اشاعت اسلام گنج مغلپورہ لاہور ) الجواب مولوی ابو الزاہد سرفراز صاحب! مولانا محمد قاسم صاحب کی مندرجہ بالا دونوں عبارتوں میں ”بالفرض “ اور ”فرض کیجئے“ کے شرطیہ جملوں کو مندرجہ بالا آیات قرآنیہ پر قیاس نہیں کر سکتے۔کیونکہ ان سب آیات میں شرط محال ہے اور شرط کے محال ہونے کی بناء پر جزا محال ہے۔کیونکہ رحمن کا بیٹا ہونا بھی ہمیشہ محال ہے۔اور ایک سے زیادہ خُداؤں کا ہونا بھی ہمیشہ محال ہے۔اور انبیاء سے شرک کا صدور بھی محال ہے۔اور قرآنی وحی کا نسخ بھی محال ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ اس کی حفاظت کا وعدہ کر چکا ہؤا ہے۔لیکن خاتمیت مرتبی کے فیض سے نبی کا ظہور ہمیشہ ممکن رہا ہے۔لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور پر بھی ممکن ہے۔کیونکہ خاتمیت مرتبی خاتم النبیین کے اصل اور مقدم معنی ہیں۔اور یہ وصف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی ہونے کی وجہ سے دائمی طور پر آپ کو حاصل ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔يُبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ آيَاتِيْ فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔(الاعراف آیت ۳۶) کہ اے بنی آدم اگر آئیندہ تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں جو میری