مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 70
(4۔) مقام خاتم انا ذیل دو عبارتوں کو پیش کرتے ہیں:۔(۱) ''بالفرض اگر بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark> پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت <mark>محمد</mark>ی میں کچھ فرق <mark>نہی</mark>ں آئے گا۔“ (۲) اس طرح فرض کیجئے آپ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔ناقل ) کے زمانہ میں بھی اس زمین میں یا <mark>کس</mark>ی اور زمین میں یا آسمان میں کوئی <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark> ہو تو وہ بھی اس وصف <mark>نبوت</mark> میں آپ کا محتاج ہوگا۔اور اس کا سلسلہ بہر طور آپ پر مختم ہوگا۔“ مولوی ابو الزاہد صاحب مولانا <mark>محمد</mark> قاسم صاحب کی ان دونوں عبارتوں میں بالفرض “ اور ”فرض کیجئے“ کے الفاظ استعمال ہونے کی وجہ سے علمائے بریلی کے خلاف لکھتے ہیں:۔رہا یہ سوال کہ حضرت نانوتوی کے نزدیک آپ کے بعد کوئی اور <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark> آسکتا ہے یا <mark>کس</mark>ی کو ثبوت مل سکتی ہے یا اس کا امکان شرعی پیدا ہوسکتا ہے تو قضیہ شرطیہ اور فرضیہ سے اس کا ثبوت کیونکر ہوا۔خود قرآن کریم میں اس کی متعد دمثالیں موجود ہیں۔“ اس کے بعد یہ دیوبندی عالم پانچ آیات قرآنیہ پیش کرتے ہیں:۔ا إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعَابِدِينَ (الزخرف ۸۲) ۲۔لَوْ كَانَ فِيْهِمَا الِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا (الا<mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>ا ء ۲۳) ٣ - وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ (الانعام (۸۹) لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ (الرزم (۶۶)