مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 69 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 69

19 مقام خاتم ان عقیدہ اور ان سب علماء کے عقیدہ میں ختم نبوت کے معنوں میں اصولی لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔ہم بھی مسیح موعود کو امتی نبی کی حیثیت میں مانتے ہیں اور یہ سب علماء بھی مسیح موعود کو امتی نبی ہی قرار دیتے ہیں۔ہمارے درمیان صرف مسیح موعود کی شخصیت کی تعیین میں اختلاف ہے۔اس کے درجہ اور مرتبہ کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں۔اب مولوی خالد محمود صاحب وغیرہ خاتم النبیین کے معنی کی یہ تاویل نہیں کر سکتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم پیدا ہونے کے لحاظ سے آخری نبی ہیں۔کیونکہ اول تو یہ خاتم النبیین کے معنوں کی تاویل و تخصیص ہے۔اور تاویل و تخصیص مولوی خالد محمود صاحب کے نزدیک بقول قاضی عیاض جائز نہیں۔دوم وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے وجود میں بعد از نزول ان کی پہلی نبوت میں ایک تغیر عظیم مان کر ایک نئی قسم کی نبوت کے حادث ہونے کے قائل ہیں۔پس یہ نئی قسم کی بہوت کا حدوث خاتمیت مرتبی کے واسطہ اور فیض سے ہی ہوسکتا ہے۔پس خاتمیت مرتبی کے فیض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد ایک نئی قسم کی نبوت کا حدوث ممکن ثابت ہوا۔اور خاتمیت زمانی بھی اس میں مانع نہ ہوئی۔کیونکہ مسیح موعود نبی اللہ کا بموجب احادیث نبویہ امتی نبی کی حیثیت میں آنا مسلم ہے۔پس خاتمیت زمانی کا یہی مفہوم متعین ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری تشریعی نبی ہیں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریعی نبی ہیں تو پھر انہیں آخری تشریعی نبی ہی قرار دیا جاسکتا ہے نہ کہ مطلق آخری نبی۔کیونکہ مسیح موعود امت محمدیہ میں نبی اللہ بھی ہے اور امتی بھی۔ایک دیوبندی عالم کا جواب علمائے بریلوی کو ایک دیو بندی مولوی ابو الزاہد سرفراز صاحب مولوی محمد قاسم صاحب کی مندرجہ