مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page viii
18 19 19 21 21 22 نمبر شمار مضمون بعض کے نزدیک آیت خاتم النبیین کی یہ تاویل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کا نبی آ سکتا ہے۔نیا نبی پیدا نہیں ہوسکتا۔اس تاویل کی وجہ حیات مسیح کا غلط عقیدہ ہے۔25 آیت خاتم النبیین امتی نبی کے آنے میں روک نہیں۔امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ کا قول کہ مسیح علیہ السلام کو آمد ثانی کے وقت مسلوب النبوۃ قرار دینا کفر ہے۔27 علماء کا قول کہ مسیح علیہ السلام امت محمدیہ کے خلیفہ ہونے کے ساتھ اپنے پہلے حال کے مطابق نبی اور رسول ہوں گے۔یہ بات ختم نبوت کے منافی ہے کیونکہ پہلی حالت میں وہ مستقل نبی تھے۔اور مستقل نبی کا آنا چونکہ آیت خاتم النبیین کے منافی ہے اس لئے وہ انہیں امتی نبی قرار دیتے ہیں۔پس وہ ایک نئی قسم کی نبوت کے حدوث کے قائل ہیں۔ایک امتی نبی کے عقیدہ میں علماء امت جماعت احمدیہ سے متفق ہیں، اختلاف صرف مسیح موعود کی شخصیت کی تعیین میں ہے نہ کہ مقام میں۔29 آیت استخلاف حضرت عیسی کے اصالتاً آنے میں روک ہے۔iii