مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 55 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 55

۵۵ مقام <mark>خاتم</mark> النی اور پھر مناظرہ عجیبہ کے صفحہ ۱۳ اپر <mark>خاتم</mark>یت زمانیہ کے اسی مفہوم کے پیش نظر لکھا ہے کہ:۔امتناع بالغیر میں کسے کلام ہے۔اپنا دین وایمان ہے کہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور <mark>نبی</mark> کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تامل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں۔“ کسی اور <mark>نبی</mark> کا ہونے سے مُراد ان کی تشریعی <mark>نبی</mark> ہے۔کیونکہ غرض <mark>خاتم</mark>یت زمانی کی وہ یہ بتاتے ہیں کہ دینِ محمدی منسوخ نہ ہو۔اس غرض کے پیش نظر صرف تشریعی اور مستقل <mark>نبی</mark> ہی نہیں آسکتا۔اور اسی لئے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے امتی <mark>نبی</mark> کی حیثیت میں آنے کا اعتقادر کھتے تھے نہ کہ مستقل اور تشریعی <mark>نبی</mark> کی حیثیت میں۔فتدبروا یا اولی الالباب۔مولوی خالدمحمودصاحب کی علماء بریلی کے متعلق شکایت مولوی خالد محمود صاحب مولا نا محمد قاسم علیہ الرحمتہ سے مسئلہ ختم نبوت میں مخالفت کرنے والے علماء کے متعلق بے انصافی کے شاکی ہیں چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔نہایت افسوس کا مقام ہے کہ حضرت مولانامحمد قاسم صاحب نانوتوی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ <mark>خاتم</mark>یت کی جو تفصیل فرمائی ہے اس سے انصاف نہیں کیا گیا۔اور اس کو اس کی پوری علمی شان کے ساتھ سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔مسلم عوام کا ایک طبقہ ختم نبوت زمانی پر اکتفاء کا دم بھر نے لگا۔اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی <mark>خاتم</mark>یت مرتبی اور آپ کے نبوت سے اتصاف ذاتی کو شہبے کی نگاہ سے <mark>دیکھا</mark> اور مرزائی حضرات