مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 53 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 53

(۵۳ مقام <mark>خاتم</mark> النی پھر حضرت مولانا موصوف مولوی عبدالعزیز صاحب امروہی کو بحث میں مخاطب کر کے لکھتے ہیں:۔(1) " آپ <mark>خاتم</mark>یت مرتبی مانتے نہیں۔<mark>خاتم</mark>یت زمانی کو ہی آپ تسلیم کرتے ہیں۔خیر اگر چہ اس میں در پردہ انکار افضلیت تامہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم لازم آتا ہے لیکن <mark>خاتم</mark>یت زمانی کو آپ اتنا عام نہیں کر سکتے جتنا ہم نے <mark>خاتم</mark>یت مرتبی کو عام کر دیا تھا۔“ ( مناظره عجیبه صفحه ۴۰) اس سے ظاہر ہے کہ <mark>خاتم</mark>یت زمانی مولانا موصوف کے نزدیک <mark>خاتم</mark>یت مرتبی کے مقابلہ میں ایک محدودصورت رکھتی ہے۔اسی لئے تو علماء <mark>خاتم</mark>یت زمانی کے ماننے کے ساتھ ہی مسیح <mark>نبی</mark> اللہ کے امت محمدیہ میں آنے کے قائل ہیں اور ان کی بعد نزول امتی <mark>نبی</mark> کی حیثیت ہی قرار دیتے ہیں۔پس ہمارے اور ان علماء کے درمیان صرف مسیح موعود کی شخصیت کی تعیین میں اختلاف ہے۔اس کے امتی <mark>نبی</mark> کی حیثیت میں آنے میں کوئی اختلاف نہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کا مستقلہ نبوت کے ساتھ آنا تو علمائے امت مانتے ہی نہیں کیونکہ مستقل <mark>نبی</mark> کی حیثیت میں کسی <mark>نبی</mark> کا آنا آیت <mark>خاتم</mark> ال<mark>نبی</mark>ین کے صریح خلاف ہے، اور اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی <mark>خاتم</mark>یت زمانی معاذ اللہ کلیہ باطل ہو جاتی ہے۔وهـــــــذا محال۔مناظرہ عجیبہ میں ہی مولانا موصوف مولوی عبد العزیز کو یہ بھی لکھتے ہیں :۔”مولانا <mark>خاتم</mark>یت زمانی کی تو میں نے توجیہ اور تائید کی ہے تغلیط نہیں کی مگر آپ گوشیہ عنایت و توجہ سے دیکھتے ہی نہیں تو میں کیا کروں۔اخبار بالعلۃ