مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 51 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 51

(۵۱) مقام خاتم السنة اس کے احکام باعتبار زمانہ سب میں آخر ر ہیں گے۔کیونکہ ہنگام مرافعہ جو بموقع لنسخ حکم حاکم ماتحت ہوتا ہے حاکم بالا دست کی نوبت آخر میں آتی ہے“ (قبله نما صفحه ۶۲) ب تو لا جرم دین خاتم الانبیاء ناسخ ادیان باقیہ اور خود خاتم الانبیاء سردار انبیاء اور افضل الانبیاء ہوگا۔“ ( قبله نما صفحه ۶۳) (۳) غرض خاتمیت زمانی سے یہ ہے کہ دین محمدی بعد ظہور منسوخ نہ ہو اور علوم نبوت اپنی انتہاء کو پہنچ جائیں۔کسی اور نبی کے دین یا علم کی طرف بنی آدم کو احتیاج نہ رہے۔( مناظرہ عجیبہ صفحہ ۴۰-۴۱) پس خاتمیت زمانی سے مُراد صرف یہ ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا دین لانے والا نبی نہیں آسکتا۔لہذا شریعت محمدیہ کے ماتحت امتی نبی کے آنے میں خاتمیت زمانی مانع نہیں کیونکہ سردار انبیاء ، افضل الانبیاء اور خاتم الانبیاء تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی رہتے ہیں۔پھر تحریر فرماتے ہیں:۔(۴) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام مراتب کمال اسی طرح ختم ہو گئے جیسے بادشاہ پر مراتب حکومت ختم ہو جاتے ہیں۔اس لئے بادشاہ کو خاتم الحکام کہہ سکتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الکاملین و خاتم