مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 40 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 40

(m۔) مقام <mark>خاتم</mark> السنة کے بعد میں لاحق ہونے کی تاثیر ایسی قرار نہیں دی جاسکتی جس سے <mark>خاتم</mark>یت مرتبی کی تاثیر کا جو <mark>خاتم</mark> ال<mark>نبی</mark>ن کے اصل اور حقیقی اور مقدم معنی ہیں آئیندہ کے لئے منقطع ہو جانا لازم آئے۔کیونکہ اگر اصل وصف قائم نہ رہے تو اس سے لازم المعنی کا لزوم کیسے ہوسکتا ہے۔ملزوم کے منفی ہو جانے سے تو لازم کا انتفاء لازم آتا ہے۔اسی لئے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا ہے:۔”ہاں اگر <mark>خاتم</mark>یت بمعنی اتصاف ذاتی بوصف نبوت لیجئے جیسا کہ اس ہیچمدان نے عرض کیا ہے تو پھر سوائے رسُول اللہ صلی علیہ وسلم کے اور کسی کو افراد مقصود بالخلق میں مماثل نبوی نہیں کہہ سکتے بلکہ اس صورت میں ا<mark>نبی</mark>اء کے افراد خارجی ( ا<mark>نبی</mark>ائے سابقین۔ناقل ) ہی پر آپ کی افضلیت ثابت نہ ہوگی افراد مقدرہ (جن کا آئیندہ آنا تجویز کیا جائے۔ناقل ) پر بھی آپ کی افضلیت ثابت ہو جائے گی۔بلکہ بالفرض اگر بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی <mark>نبی</mark> پیدا ہو تو پھر بھی <mark>خاتم</mark>یت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔“ مولانا موصوف کی اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد <mark>نبی</mark> کے پیدا ہونے سے <mark>خاتم</mark>یت محمدی میں کچھ فرق نہیں آتا۔واضح رہے کہ ” <mark>خاتم</mark>یت محمدی ” <mark>خاتم</mark>یت مرتبی“ اور ” <mark>خاتم</mark>یت زمانی “ دونوں پر مشتمل اور ان کی جامعہ ہے۔اور <mark>خاتم</mark>یت مرتبی بقول مولانا محمد قاسم صاحب علیہ الرحمہ <mark>خاتم</mark>یت زمانی کا ملزوم ہے۔اور چونکہ <mark>خاتم</mark>یت زمانی <mark>خاتم</mark>یت مرتبی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی ظہور پر لاحق ہو کر لازم ہوئی ہے۔لہذا <mark>خاتم</mark>یت زمانی، <mark>خاتم</mark>یت مرتبی کی آئیندہ افاضہ نبوت ( تحذیر الناس صفحہ ۲۸)