مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 36 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 36

مقام خاتم النی نتين نزدیک خاتم النبیین کے ظاہری معنی کیا ہیں۔اور ان معنوں کی موجودگی میں وہ حضرت عیسی علیہ السّلام کی آمد ثانی کو تسلیم کرتے ہوئے خاتم النبیین کے ظاہری معنوں میں کس طرح تاویل و تخصیص کے قائل نہیں۔اب تو مولوی خالد محمود صاحب ہی اُن کی طرف سے وکیل ہیں۔لہذاوہی ہمارے سوال کا جواب دیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ثانی کے قائل ہونے کی صورت میں وہ کس طرح آیت خاتم النبیین میں تاویل و تخصیص کے قائل نہیں؟ جبکہ مولوی خالد محمود صاحب ان کی طرف خاتم النبیین کے یہ معنی منسوب کر رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہونے کے لحاظ سے آخری نبی ہیں۔اور آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا۔ان معنوں کے رُو سے تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم مطلق آخری نبی ثابت نہیں ہوتے۔کیونکہ پیدائش کے لحاظ سے آخری نبی تو آخری نبی کی ایک مقید اور مخصوص صورت قرار پاتی ہے۔اور اس طرح مطلق آخری نبی معنی کر کے ان میں تاویل و تخصیص کا قائل ہونا ہے۔آیت خاتم النبیین کے حقیقی بلا تاویل و تخصیص معنی میں بتا چکا ہوں کہ آیت خاتم النبیین کے معنی مطلق آخری نبی نہ ہم مانتے ہیں نہ خالد محمود صاحب اور نہ دوسرے علمائے امت۔کیونکہ ہم اور دوسرے علمائے امت سب مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی نبی کی حیثیت میں مانتے ہیں۔اور ہم میں اور اُن میں اختلاف ہے تو صرف مسیح موعود کی شخصیت کی تعیین میں ہے نہ کہ اس کے امتی نبی ہونے کی حیثیت میں۔اگر خاتم النبیین کے معنی مطلق آخری نبی کئے جائیں تو پھر ان علماء کو مسیح موعود کو انتی نبی ماننے کی صورت میں بلا شبہ خاتم النبیین کے معنوں میں تاویل و