مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 19
(19) مقام خاتم است اللہ علیہ وسلم کے بعد آسکتا ہے اور اس کا آنا نہ آیت خاتم النبیین کے منافی ہے اور نہ ان احادیث کے منافی ہے جو انقطاع نبوت پر دلالت کرتی ہیں۔پس حضرت عیسی علیہ السلام اصالتا امتی نبی کی حیثیت میں آئیں یا امت محمدیہ کا کوئی فرد امتی نبی کا مقام حاصل کرے، اُصولی طور پر ایک نئی قسم کی نبوت کے حدوث پر روشن دلیل ہے۔جب ان علماء نے حضرت عیسی علیہ السّلام کے وجود میں ایک نئی قسم کی نبوت کا حدوث مان لیا تو اس نئی قسم کے نبی کا پیدا ہو جانا بھی ممکن ثابت ہو گیا۔کیونکہ اس طرح آیت خـــاتــم النبيين اور لَا نَبِيَّ بَعْدِی کی قسم کی احادیث جو انقطاع نبوت پر دال ہیں کے منافی صرف تشریعی یا مستقلہ نبوت قرار پائی نہ کہ ایسی نبوت جس کا حامل ایک پہلو سے نبی ہو اور ایک پہلو سے امتی۔ہاں اُنہوں نے غور نہیں کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی مستقلہ نبوت کے زوال پر اتی نبی بنایا جانا اول تو ان کی نبوت مستقلہ کے سلب کو ستلزم ہے جو ایک امر محال ہے۔دوم وفات مسیح علیہ السلام جو بنصوص صریحہ قرآنیہ حدیثیہ ثابت ہے، حضرت عیسی علیہ السلام کی اصالتا دوسری آمد میں روک ہے لہذا احادیث میں موعود عیسی کوئی امتی فرد ہی ہو سکتا ہے جسے مجاز اور استعارہ کے طور پر احادیث میں ابنِ مریم یا عیسی کا نام دیا گیا ہے۔اگر چہ نواب صدیق حسن خان صاحب بحوالہ امام جلال الدین سیوطی یہ لکھتے ہیں :۔مَنْ قَالَ بِسَلْبِ نُبُوَّتِهِ فَقَدْ كَفَرَ حَقًّا كَمَا صَرَّحَ بِهِ السُّيُوطِيُّ۔(حُجَجُ الْكَرَامَة صفحه ۴۳۱) کہ جو شخص یہ کہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام مسلوب النبوۃ ہو کر آئیں گے وہ کافر ہے جیسا کہ امام سیوطی علیہ الرحمہ نے اس کی تصریح کی ہے۔چنانچہ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ:۔