مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 18 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 18

۱۸ مقام خاتم النی نتبيين اور حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے منافی نہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع اور آپ کا امتی ہو۔اور شریعت محمدیہ کے کسی حکم کو منسوخ نہ کرتا ہو بلکہ پورے طور پر شریعت محمدیہ پر چلنے والا ہو۔بعض علماء نے آیت خاتم النبیین کی یہ تاویل بھی کی ہے کہ کوئی پہلا نبی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آسکتا ہے لیکن نیا نبی پیدا نہیں ہوسکتا۔ان لوگوں کی اس تاویل کا باعث صرف یہ امر تھا کہ یہ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کی اصالتا آمد کے قائل تھے اور نہیں جانتے تھے کہ مسیح موعود تو امت محمدیہ میں سے ہی پیدا ہونے والا تھا۔اگر ان لوگوں پر یہ انکشاف ہو چکا ہوتا کہ احادیث میں ابنِ مریم کے نزول سے مراد حضرت عیسی علیہ السلام کا اصالتا آنانہیں بلکہ یہ ابن مریم امت محمدیہ کا ہی ایک فرد ہے جسے حضرت عیسی علیہ السلام کا مثیل ہونے کی وجہ سے احادیث نبویہ میں استعارہ کے طور پر ابن مریم یا عیسی کا نام دیا گیا ہے تو وہ کبھی ” خاتم النبيين “ کی یہ تاویل نہ کرتے کہ کوئی ایسا نبی جو ایک پہلو سے نبی ہو اور ایک پہلو سے امتی ہو آئندہ پیدا نہیں ہوسکتا بلکہ حضرت عیسی علیہ السلام ہی جو مستقل نبی تھے، وہی اب امتی نبی کی حیثیت میں آئیں گے۔کیونکہ کوئی مستقل نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا۔ہمیں اُن کا یہ بیان تو مسلّم ہے کہ کوئی مستقل نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے بعد نہیں آسکتا۔لیکن ایک مستقل نبی کا امتی نبی کی حیثیت میں آنا ان کی مستقلہ نبوت میں ایک تغیر پیدا ہونے کی وجہ سے ایک نئی قسم کی نبوت کے حدوث ( وجود میں آنے ) کومستلزم ہے۔کیونکہ ہر تغیر حدوث پر دلالت کرتا ہے۔اسی طرح اُصولاً انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ ایک نئی قسم کی نبوت کا حامل جو ایک پہلو سے نبی ہو اور ایک پہلو سے امتی ہو آنحضرت صلی