مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 13
پیشگوئیوں میں اجماع نہیں ہوسکتا، مقام خاتم انا پیشگوئی کے ظہور سے پہلے ضروری نہیں کہ اس کے مفہوم کے بارہ میں علماء کی اجتہادی رائے بالکل ہی صحیح ہو۔کیونکہ پیشگوئی کی پوری حقیقت دراصل اس کے وقوع پر ہی کھلتی ہے۔اسی لئے فقہاء اسلام نے پیشگوئی میں اجماع پایا جانے سے انکار کیا ہے۔کیونکہ پیشگوئی کے وقوع سے پہلے اس کے معنی محض ایک رائے کی حیثیت رکھتے ہیں۔جس میں غلطی ہو جانے کا بھی احتمال ہوتا ہے۔چنانچہ مسلم الثبوت میں لکھا ہے:۔أَمَّا فِي المُسْتَقْبِلَاتِ كَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَأُمُورِ الْآخِرَةِ فَلَا (اجماع) عِنْدَ الْحَنَفِيَّةِ لِأَنَّ الْغَيْبَ لَا مَدْخَلَ لَهُ فِي الْإِجْتِهَادِ۔“ (مسلم الثبوت مع شرح صفحه ۲۴۶) یعنی جو امور زمانہ مستقبل سے تعلق رکھتے ہیں جیسے علامات قیامت اور اُمورِ آخرت ان میں حنفیوں کے نزدیک اجماع نہیں کیونکہ امر غیب میں اجتہاد کا کوئی دخل نہیں۔پس اگر اُمت کے سارے علماء بھی اس بات پر اتفاق کر لیتے کہ نزول ابنِ مریم کی پیشگوئی سے مُراد حضرت عیسی علیہ السلام کی اصالتا آمد ہے۔تب بھی ان علماء کی یہ رائے اجماع نہ کہلا سکتی۔لیکن اب تو اس مسئلہ کا یہ حال ہے کہ گوا کثر علماء حضرت عیسی علیہ السلام کی اصالتاً آمد کے قائل رہے ہیں لیکن ایک گروہ مسلمانوں کا اس بات کا بھی قائل رہا ہے کہ ابنِ مریم کے نزول سے مراد یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام حضرت عیسی علیہ السلام کا بروز ہوں گے۔چنانچہ عبد الکریم صاحب صابری اپنی کتاب ”اقتباس الانوار میں لکھتے ہیں:۔