مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 258
(ron) نبوت کا قائل ثابت کرنا فریب اور بد دیانتی ہے۔“ مقام خاتم انا (عقیدۃ الامۃ صفحہ ۱۱۱) ہم نے جب علمی تبصرہ میں اس توجیہہ سے استدلال ہی نہیں کیا تو نہ ہم نے کوئی فریب دیا ہے نہ بد دیانتی کی ہے۔البتہ یہ بات ہمارے لئے قابل تعجب ہے کہ فاضل اندلسی تو اس تفسیر کو آیت خاتم النبیین کے خلاف قرار دے کر رڈ کرتے ہیں اور مولوی خالد محمود صاحب یہ لکھ رہے ہیں کہ یہ تفسیر اُن کے لئے ہرگز مضر نہیں۔مولوی خالد محمود صاحب نے اُمت میں نبی کی آمد کورڈ کرنے کے لئے علامہ راغب کا ایک قول نقل کیا ہے کہ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لِأَنَّهُ خَتَمَ النُّبُوَّةَ أَوْ تَمَّمَهَا بِمَجِيْنِهِ ،، (مفردات القرآن زیر لفظ ختم ) مولوی خالد محمود صاحب پر واضح ہو کہ امام راغب کے اس کلام کا مفہوم اُن کی توجيه النَّبِيُّ بِالنَّبِيِّ، امت محمدیہ کے نبی کو پہلے نبی سے ملا دیگا کے بالمقابل اور ختم کے حقیقی لغوی معنی تاثیر الشیبی کی روشنی میں اور آیت فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِيْنَ کی تفسیر کی روشنی میں یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم خاتم النبیین ہیں۔آپ نے النبوة پر مہر لگا دی ہے یعنی اپنی آمد سے اُسے کمال تک پہنچا دیا ہے یعنی نبوت کے کمالات ممکنہ آپ کی ذات میں انتہائی کمال کو پہنچ گئے ہیں۔اب آپ کی شان اور مرتبہ کا کوئی نبی آپ کے بعد نہیں آسکتا۔ہاں آپ کی مہبر نبوت کی تاثیر اور فیض سے آپ کا ایک امتی اور روحانی فرزند مقام نبوت