مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 257
(۲۵۷) مقام خاتم است فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ کا اشارہ ملاء اعلیٰ کی طرف ہے اور ملاء اعلے والے اچھے رفیق ہیں۔اور اس امر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ قول بیان کرتا ہے جو آپ نے اپنی وفات کے وقت کہا اللھم الْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْاعْلیٰ۔اور یہ توجیہہ ظاہر ہے۔اس توجیہہ کی رُو سے آیت کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ جو لوگ نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین میں سے اللہ تعالیٰ اور رسولِ کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں وہ ملاء اعلیٰ کے رہنے والوں سے جا ملتے ہیں۔امام راغب کے اس قول سے یہ تو ظاہر ہے کہ امت محمدیہ میں نبی آ سکتا ہے مگر ساتھ ہی چونکہ اس بات کا بھی احتمال ہو سکتا ہے کہ تشریعی اور مستقل نبی بھی آسکتا ہے۔اس لئے اس احتمال کے پیش نظر امام راغب کی پہلی تو جیہہ زیادہ درست ہے۔کیونکہ اس کے رُو سے تشریعی نبی اور مستقل نبی کے خاتم النبیین کے بعد آنے کا احتمال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔بلکہ صرف ایسے نبی کا آنا ہی آیت خاتم النبیین کے رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جائز اور ممکن قرار پاتا ہے۔جو نبی بھی ہو اور ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بھی ہو۔اور ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کی شریعت کے تابع رہے۔خالد محمود صاحب اس دوسری توجیہ کی ترکیب نحوی کے متعلق لکھتے ہیں:۔یہ ترکیب گو علمی لحاظ سے صحیح نہیں مگر ہمیں ہرگز مضر نہیں۔کیونکہ حضرت عیسیٰ اور حضرت خضر علیہ السلام بے شک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والوں میں سے ہیں۔اس سے علامہ راغب کو اجرائے