مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 256
(roy) مقام خاتم انا امام راغب کی دوسری توجیہہ کی خامی امام راغب کی دوسری توجیہہ میں میرے نزدیک معنوی خامی یہ ہے کہ اس ترکیب کے رُو سے تشریعی نبی یا مستقل نبی کی آمد کا بھی جواز نکلتا ہے۔گو مقصو دان کا امتی نبی کی آمد کا ہی جواز ہو۔غالباً اسی لئے فاضل اندلسی کے اسی احتمال کے پیش نظر اس تو جیہہ کو آیت خاتم النبیین کے خلاف قرار دیا ہے۔کیونکہ یہ آیت اس بات پر نص قطعی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے بعد کوئی تشریعی یا مستقل نبی نہیں آ سکتا۔بلکہ صرف ایسا نبی ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آسکتا ہے جو ایک پہلو سے نبی ہواور ایک پہلو سے امتی بھی۔امام راغب علیہ الرحمہ کی یہ دوسری توجیہ بحرالمحیط میں ان الفاظ میں پیش کی گئی ہے:۔أَجَازَ الرَّاغِبُ أَنْ يَتَعَلَّقَ مِنَ النَّبِيِّنَ لِقَوْلِهِ وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ أَيْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَيَكُوْنُ قَوْلُهُ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ إِشَارَهُ إِلَى الْمَلِدِ الْأَعْلَىٰ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا يُبَيِّنُ ذَلِكَ قَوْلُ النَّبِيِّ حِيْنَ الْمَوْتِ اللَّهُمَّ الْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلى۔وَهَذَا ظَاهِرٌ۔(بحر المحيط جلد ۳ صفحه ۲۸۷ ترجمہ: امام راغب نے اس بات کو بھی جائز رکھا ہے کہ مِنَ النَّبِيِّينَ کے الفاظ خدا تعالیٰ کے قول مَنْ يُطِعِ اللَّہ سے متعلق ہیں اور خدا کا قول