مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 6 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 6

ترجمه مقام خاتم انا اور شامی نے کہا ہے کہ بات اسی طرح ہے (جیسے امام ابن قیم نے کہی ہے) کیونکہ یہ بات عیسائیوں سے مروی ہے اور احادیث نبویہ میں تصریح سے بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا رفع اُس وقت ہوا جبکہ ان کی عمر ایک سو بیس سال کی تھی۔“ شامی نے جن احادیث کا اس جگہ ذکر کیا ہے ان میں اُٹھانے کے معنوں کے لئے تو کوئی لفظ موجود نہیں۔بلکہ "عاش کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں زندہ رہا۔چنانچہ ایسی احادیث کے الفاظ یہ ہیں :۔إِنَّ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَاشَ مَا نَةً وَعِشْرِيْنَ سَنَةً۔“ 66 ( کنزل العمال جلد ۴ و مستدرک للحاکم صفحه ۱۴۰) یعنی بے شک عیسی بن مریم ایک سو بیس سال زندہ رہے۔پس احادیث نبویہ سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ایک سو بیس سال کی عمر میں وفات پائی۔پس اگر شامی کی مراد رفع سے باعزت وفات ہے جس میں رُوح آسمان کی طرف اُٹھائی جاتی ہے تو ہمیں اعتراض نہیں۔ورنہ لفظ عـاش کی تاویل رفع جسمانی کے معنوں میں بالکل غلط تاویل ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منشاء کے صریح خلاف ہے۔رفع الی اللہ کا محاورہ عربی زبان میں باعزت وفات کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت انسؓ سے بحوالہ ابن جریر بن مردویہ بہتی میں ہے أَكْرَمَ اللهُ نَبِيَّةَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُ فِي أُمَّتِهِ مَا