مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 239
۲۳۹ مقام خاتم انا نتين وجود میں نبوت اس کامل شان کے ساتھ جلوہ گر ہوئی ہے جس طرح بادل کے موجود نہ ہونے کے وقت سورج اپنی پوری تحتی دکھاتا ہے۔پس یہ شعر تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے نور نبوت کو علی وجہ الکمال پانے اور اس کی کامل جلوہ گری کو ظاہر کرتا ہے۔اور اسی جلوہ گری کے فیضان سے اُمت میں نبوت ملتی ہے۔مگر مولوی خالد محمود صاحب اس کی حقیقت کو معمولی دکھانے کے لئے لکھتے ہیں:۔”مولا نا تو اسی اعتبار سے ہر متبع سنت و پیر ومرشد کو مجاز انبی کہتے ہیں۔دست را مسپار حجز در دست پیر پیر حکمت کو علیم است و خبیر اں نمی وقت باشد اے مُرید تا از و نُورِ نبی آید پدید جب پیر حکمت جو علیم وخبیر ہو مولانا روم کے نزدیک بھی وقت ہوتا ہے تو مسیح موعود کو تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی اللہ بھی قرار دیا ہے اور فَامَّكُمْ مِنْكُمْ کا مصداق بھی قرار دیا ہے۔پس وہ تو بدرجہ اولیٰ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہوا۔حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمۃ کا عقیدہ ختم نبوت کے متعلق حضرت ولی اللہ شاہ صاحب محدث دہلوی مجد دصدی دوازدہم علیہ الرحمۃ کا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں آسکتا۔چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں:۔" خُتِمَ بِهِ النَّبِيُّوْنَ اَيْ لَا يُوْجَدُ مَنْ يَّأْمُرُهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِالتَّشْرِيْع عَلَى النَّاسِ۔“ ( تفہیمات الہیہ جلد ۲ صفحہ ۷۳) ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نبیوں کے ختم کا یہ مطلب ہے کہ اب