مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 5
میں پو را کرے گا۔مقام خاتم انا یہ مختلف تاویلیں اس لئے کی گئیں کہ عیسائیوں کے اثر ماتحت یہ عقیدہ بن چکا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ اُٹھائے گئے ہیں۔اور وہی اصالتاً دوبارہ نازل ہوں گے۔پھر عیسائیوں کی تقلید میں ہی مسلمانوں کا یہ عقیدہ بن گیا کہ وہ ۳۳ سال کی عمر میں زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں۔حالانکہ اسلام میں کوئی ایسی حدیث موجود نہیں جو۳۳ سال کی عمر میں یا کسی اور عمر میں اُن کے زندہ معہ روح و جسم آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر کرتی ہو۔امام ابن القیم نے زادالمعاد میں لکھا ہے:۔ترجمه " أَمَّا مَا يُذْكَرُ عَنِ الْمَسِيحِ أَنَّهُ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ وَلَهُ ثَلَاثَةٌ وَ ثَلاثُوْنَ سَنَةً فَهَذَا لَا يُعْرَفُ لَهُ اَثَرٌ مُتَّصِلٌ يَجِبُ الْمَصِيرُ إِلَيْهِ۔“ 66 (زادالمعادجلد اصفحہ ۱۹ مطبوعہ مطبع نظامی کانپور ) یہ جو بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ۳۳ سال کی عمر میں آسمان پر اٹھائے گئے تو اس کے لئے کوئی ایسی متصل روایت نہیں پائی جاتی جس کی طرف رجوع کرنا واجب (ضروری) ہو۔اس بیان پر صاحب فتح البیان لکھتے ہیں:۔" وَقَالَ الشَّامِيْ هُوَ كَمَا قَالَ فَإِنَّ ذَلِكَ يُرْوَى عَنِ النَّصَارَى وَ الْمُصَرَّحُ بِه فِى الْأَحَادِيثِ النَّبَوِيَّةِ أَنَّهُ رُفِعَ وَهُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَعِشْرِيْنَ سَنَةً۔“ ( تفسیر فتح البیان جلد ۲ صفحه ۴۹)