مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 4 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 4

(c) مقام خاتم ا کر لیا۔اور اس کو اپنی تفسیروں میں نقل کرنے لگے جس سے یہ عقیدہ شہرت پا گیا۔ان علماء نے احادیث نبویہ پر غور نہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نازل ہونے والے ابنِ مریم کو امت محمدیہ میں سے ایک فرد قرار دے کر اُسے امت کا امام ٹھہرایا تھا۔اور نہ اس بات کی طرف توجہ کی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے حق میں تو قرآن مجید میں اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَی کے الفاظ وارد ہیں۔جن میں خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السّلام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ یہ یہودی تمہیں قتل نہیں کر سکتے۔میں تمہیں طبعی وفات دوں گا۔اور اپنی طرف اُٹھاؤں گا۔اس سے ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السّلام سے خدا کا وعدہ وفات دے کر اپنی طرف ان کے رفع کرنے کا تھا۔رفع کا لفظ عربی زبان میں باعزت وفات دینے کے معنوں میں بھی آتا ہے۔لیکن چونکہ یہ عقیدہ بن گیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ معہ روح و جسم اُٹھائے گئے اس لئے مفترین توفی کی تاویل پورا پورا لینا کرنے لگے۔حالانکہ عربی زبان میں یہ لفظ خدا کے فاعل اور انسان کے مفعول بہ ہونے کی صورت میں ہمیشہ قبض روح کے معنوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس سے مُتَوَفِّيْكَ کے معنے مُمِيْتُک تجھے موت دینے والا بیان ہوئے ہیں۔اور امام لغت علامہ زمخشری نے اس کے معنی مُمِيْتُكَ حَتْفَ انْفِكَ لَا قَتْلاً بِأَيْدِيْهِمْ لکھے ہیں۔( تفسیر کشاف زیر آیت ہذا ) یعنی خدا تعالیٰ نے کہا کہ اے عیسی میں تجھے طبعی وفات دینے والا ہوں تو یہودیوں کے ہاتھ سے قتل نہیں ہوگا۔بعض مفسرین نے مُتَوَفِّیک کی اس تاویل پورا لینے کو تو پسند نہ کیا۔اس لئے انہوں نے مُتَوَفِّیک کے معنی تو وفات ہی کے کئے مگر انہوں نے اس آیت میں یہ تاویل کر لی کہ رَافِعُكَ اِلَی کا وعدہ خدا نے پہلے پورا کر دیا ہے اور مُتَوَفِّیگ کا وعدہ بعد