مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 219
۲۱۹ مقام خاتم النت پہلے بیان کر چکے ہیں۔انہوں نے صرف تشریعی نبوت کو منقطع قرار دیا ہے۔نہ کہ غیر تشریعی نبوت کو۔اور دونوں قسم کے <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>وں پر فرشتہ کا وحی لے کر آنا تسلیم کیا ہے۔لیکن دونوں قسم کے <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>وں پر نازل ہونے والی وحی کی کیفیت میں فرق قرار دیا ہے۔جو یہ ہے کہ غیر تشریعی <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark> پر احکام <mark>شریعت</mark> <mark>جدیدہ</mark> نازل نہیں ہوتے۔اسی کے پیش نظر وہ لکھتے ہیں:۔" هَذَا بَابٌ اُغْلِقَ بَعْدَ مَوْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يُفْتَحُ لِأَحَدٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلَكِنْ بَقِيَ لِلْأَوْلِيَاءِ وَحْيُ الْهَامِ الَّذِي لَا تَشْرِيْعَ فِيْهِ۔“ (الیواقیت والجواہر جلد ۲ صفحہ ۳۶) یعنی یہ وہ <mark>دروازہ</mark> ہے جو <mark>محمد</mark> صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کی موت پر <mark>بند</mark> کر دیا گیا ہے۔پس یہ قیامت کے دن تک کسی پر نہیں کھولا جائے گا لیکن خدا کے پیاروں کے لئے وحی الہام کا <mark>دروازہ</mark> کھلا ہے جس میں <mark>شریعت</mark> <mark>جدیدہ</mark> نہیں ہوتی۔پس ایک قسم کی وحی کا <mark>دروازہ</mark> امام موصوف کے نزدیک کھلا ہے اور یہ وہ وحی ہے جس میں <mark>شریعت</mark> <mark>جدیدہ</mark> کے اوامر و نواہی نہیں ہوتے۔ایسے لوگوں کو جن پر وحی غیر تشریعی نازل ہو صوفیاء ا<mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>اء الاولیا ء قرار دیتے ہیں اور اُن کی نبوت کو نبوة الولایت کا نام دیتے ہیں۔امام موصوف مسیح موعود کے متعلق اپنے استاد کی طرح لکھتے ہیں:۔" فَيُرْسَلُ وَلِيًّا ذَا نُبُوَّةٍ مُطْلَقَةٍ وَيُلْهَمُ بِشَرْعِ مُحَمَّدٍصَلَّى اللَّهُ