مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 217 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 217

۲۱۷ مقام خاتم است اُس کی طرف بھیجا گیا ہے اور جس کی ہمیشہ کے لئے پیروی کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔اس کے بعد وہ دوسری قسم تشریعی نبوت کے متعلق لکھتے ہیں:۔" هذَا الْمَقَامُ لَمْ يَبْقَ لَهُ أَثَرٌ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ 66 إِلَّا فِي الْائِمَّةِ الْمُجْتَهِدِيْنَ مِنْ أُمَّتِهِ۔“ (الیواقیت والجواہر حوالہ مذکور ) ترجمہ: تشریعی نبوت کے مقام کا کوئی اثر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد باقی نہیں رہا سوائے اس اثر کے جو ائمہ مجتہدین میں (اجتہاد کی صورت) میں پایا جاتا ہے۔ہم نے قسم اول کے نبی سے متعلقہ عبارت کے فقرہ من غیر روح مـلـکی کی خطوط وحدانیہ میں یہ تشریح کی ہے کہ اس پر فرشتہ شریعت جدیدہ کے ساتھ نازل نہیں ہوگا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری جگہ امام موصوف لکھتے ہیں:۔" وَالْحَقُّ اَنَّ الْكَلَامَ فِي الْفَرْقِ بَيْنَهُمَا إِنَّمَا هُوَ فِي كَيْفِيَّتِهِ مَا يَنْزِلُ بِهِ الْمَلَكُ لَا فِى نُزُولِ الْمَلَكِ ، " (الیواقیت والجواہر جلد ۲ صفحه ۵۹) یعنی سچی بات یہ ہے کہ دونوں قسم کے نبیوں کے درمیان فرق صرف اس وحی کی کیفیت میں ہوتا ہے جسے فرشتہ لیکر نازل ہوتا ہے فرشتہ کے نزول میں کوئی فرق نہیں ہوتا ( یعنی فرشتہ دونوں قسم کے نبیوں پر نازل ہوتا ہے )