مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 203
(rr) مقام خاتم السنة نتين عام اور اُصولی مفہوم کو خالد محمود صاحب اپنے نوٹ میں گول مول کر گئے ہیں۔چنانچہ لکھتے ہیں :۔پیش نظر رہے کہ آنحضرت کے بعد مقام نبوت کی نفی نہیں۔آخر حضرت عیسی علیہ السلام نے تو آنا ہی ہے۔ہاں نبوت ملنے کی نفی ہے۔جسے کہ تشریح کہتے ہیں۔حاصل اینکہ یہاں انقطاع تشریح ہے یعنی نبوت ملنے کا انقطاع ہے۔خود نبوت کا انقطاع نہیں۔“ ( عقيدة الامة صفحه ۸۱) واضح ہو کہ تشریعی نبوت کا انقطاع تو ہم احمدی بھی مانتے ہیں۔اور شیخ اکبر بھی۔مگر وہ تشریعی نبوت کو مقام نبوت پر ا مرزائد جانتے ہیں۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ثبوت ملنے کا انقطاع ہے خود نبوت کا انقطاع نہیں “ یہ گول مول فقرہ خالد محمود صاحب نے اس لئے لکھا ہے کہ یہ ظاہر کریں کہ گویا شیخ اکبر آئندہ نبی پیدا ہونے کا انقطاع تو قرار دیتے ہیں لیکن نبوت کا انقطاع قرار نہیں دیتے کیونکہ ایک پرانے نبی حضرت عیسی نے آنا جو ہوا۔مولوی خالد محمود صاحب! اس ہیرا پھیری سے کیا فائدہ کیونکہ شیخ اکبر علیہ الرحمہ تو نبوت کو قیامت تک جاری قرار دیتے ہیں اور صرف تشریعی نبوت کو منقطع جانتے ہیں۔چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں:۔" فَالنُّبُوَّةُ سَارِيَةٌ إلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فِي الْخَلْقِ وَإِنْ كَانَ التَّشْرِيْعُ قَدِ انْقَطَعَ فَالتَّشْرِيْعُ جُزُءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ۔66 (فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحہ ۱۰۰ باب نمبر ۷۳)