مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 193
(19) مقام خاتم النی ” ملا علی قاری یہاں سمجھا رہے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ حضرت عمر یا حضرت علی یا حضور کے بیٹے حضرت ابراہیم جیسے کسی اور بزرگ کو نبی بناتا تو اُسے بھی حضرت عیسی اور حضرت خضر کی طرح تاجدار نبوت سے پہلے نبی بناتا کیونکہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا۔اسی فرضی صورت میں یہ ضروری نہیں کہ ان بزرگوں کے تشخصات بھی وہی ہوں جو اب تھے۔یعنی حضرت ابراہیم حضور کے بیٹے بھی ہوں۔اور پھر آنحضرت سے پہلے کے نبی ہوں۔بنا بر فرض نبوت حضرت ابراہیم کا یہ شخص لازم نہیں۔یعنی اُن کے فرزند رسول سے صرف نظر کر کے ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر رب العزت انہیں یا حضرت عمرؓ کو نبی بناتے تو یہ بزرگ یقینی طور پر حضرت عیسے ، حضرت خضر اور حضرت الیاس کی طرح حضور سے پہلے کے نبی ہوتے اور حضور کے بعد تک رہنے کی صورت میں حضور کے تابع شریعت ہو کر رہتے۔اور اس طرح کا اگر کوئی پچھلا نبی آ جائے تو اس کا آنا خاتم النبیین کے خلاف نہیں ہوگا البتہ اس کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ آپ کی شریعت کے ماتحت رہے اور اس کی اپنی نبوت نافذ نہ ہو جیسے ایک صوبے کا گورنر جب دوسرے گورنر کے صوبہ میں چلا جائے تو وہ گورنر وہاں بھی ہوگا۔لیکن 66 اس کی حکومت وہاں نافذ نہ ہوگی۔“ ( عقیدۃ الامۃ صفحہ ۷۴ )