مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 192 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 192

احاله مقام خاتم است " عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيْمُ أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلى اُمِّهِ مَارِيَةَ فَجَاءَ تْهُ وَغَسَلَتْهُ وَكَفَّنَتْهُ وَخَرَجَ بِهِ وَخَرَجَ النَّاسُ مَعَهُ فَدَفِنَهُ وَأَدْخَلَ النَّبِيُّ يَدَهُ فِي قَبْرِهِ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهُ لَنَبِيٌّ إِبْنُ نَبِيِّ۔“ رض (الفتاوی الحدیثیہ لا بن حجر ہیثمی صفحہ ۱۲۵) ترجمہ: حضرت علی ابن ابی طالب سے روایت ہے کہ جب ابراہیم ( فرزند رسُول۔ناقل ) وفات پا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی والدہ ماریہ کو بلا بھیجا۔وہ آئیں اور اُسے غسل دیا اور کفن پہنایا اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اُسے لے کر نکلے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ نکلے تو آپ نے اُسے دفن کیا اور نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس کی قبر میں داخل کیا۔پس کہا خدا کی قسم بے شک یہ ضرور نبی ہے نبی کا بیٹا ہے۔اس حدیث سے ظاہر ہے کہ صاحبزادہ ابراہیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک بالقوۃ نبی ضرور تھے اور یہ امر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا کی طرف سے منکشف ہو چکا تھا اسی لئے تو آپ نے فرمایا کہ اگر وہ زندہ رہتا تو ضر ورصدیق نبی ہوتا۔یعنی بالفعل نبی ہوتا۔مولوی خالد محمود صاحب کی غلط بیانی مولوی خالد محمود صاحب امام علی القاری علیہ الرحمہ کی توجیہ کو اپنے مقصد کے خلاف پا کر نہایت گھبراہٹ میں امام موصوف کی طرف ایک ایسی بات منسوب کرتے ہیں جس کا انہیں و ہم بھی نہیں ہوسکتا۔چنانچہ مولوی خالد محمود صاحب لکھتے ہیں:۔