مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 182
۱۸۲ مقام خاتم است ” اَبُوْ بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُوْلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ۔“ ( مشکوۃ باب مناقب الصحابه ) ترجمہ: ابوبکر اور عمر دونوں اہل جنت کے ادھیٹر آدمیوں میں سے سب پہلوں اور پچھلوں کے سردار ہیں سوائے نبیوں اور رسولوں کے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افصح العرب تھے۔لہذا اگر پچھلوں میں سے نبی اور مرسل کے آنے کا امکان نہ ہوتا تو پھر نہ اوّلین کے لفظ کے استعمال کی ضرورت تھی نہ آخرین کی۔پس جب پہلوں میں نبی ہوئے تو پچھلوں میں بھی نبی اور مرسل کے پیدا ہونے کا امکان ثابت ہوا۔تیسری حدیث حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ " قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَبَّاسِ فِيْكُمُ النُّبُوَّةُ وَالْمَمْلَكَةُ » 66 ( حج الکرامہ صفحہ ۹۷) ترجمہ: رسول خدا صلے اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس سے کہا کہ تم لوگوں میں نبوت بھی ہوگی اور سلطنت بھی۔یہ روایت ابن عسا کرنے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔اسی کی مؤیدا بن عسا کر کی یہ روایت بھی ہے: