مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 161 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 161

مقام خاتم السنة کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا اور اس کو بہت آراستہ پیراستہ کیا۔مگر اس کے گوشوں میں سے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔پس لوگ اُسے دیکھنے آتے اور خوش ہوتے اور کہتے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی۔آپ نے فرمایا۔میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔علامہ ابن حجر اس حدیث کی تشریح میں تحریر فرماتے ہیں:۔" الْمُرَادُ هِنَا النَّظْرُ إِلَى الْأَكْمَلِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الشَّرِيعَةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ مَعَ مَا مَضَى مِنَ الشَّرَائِعِ الْكَامِلَةِ یعنی مراد اس تکمیل عمارت سے یہ ہے کہ شریعت محمدیہ سے پہلے گزری ہوئی کامل شریعتوں کی نسبت اکمل شریعت ہے۔پس اس لحاظ سے خاتم النبیین کے معنی یہ ہوئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام سابقہ نبیوں کی شریعتوں کے مقابلہ میں اکمل شریعت لانے والے نبی ہیں۔علامہ ابن خلدون اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:۔" فَيُفَسِّرُوْنَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ بِاللَّبِنَةِ حَتَّى اَكْمَلَتِ الْبُنْيَانَ وَمَعْنَاهُ النَّبِيُّ الَّذِي حَصَلَتْ لَهُ النُّبُوَّةُ الْكَامِلَة۔“ مقدمه ابن خلدون صفحه ۲۷۱) یعنی مفترین خاتم النبیین کی تفسیر اینٹ سے بیان کرتے ہیں۔یہائک کہ اس اینٹ نے عمارت کو مکمل کر دیا۔معنی اس کے وہ نبی ہیں جس کو نبوت کا ملہ حاصل ہوئی۔