مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 160
(M۔) مقام خاتم النت اس نتیجہ سے ہمیں اتفاق ہے۔اس حدیث کے رُو سے امت محمدیہ میں کوئی صاحب سیاست مستقل نبی آنے والا نہیں۔اور اس حدیث کی روشنی میں امت محمدیہ کا مسیح موعود بھی جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم نے نبی اللہ بھی قرار دیا ہے اور امامکم منکم فرما کر امتی بھی قرار دیا ہے۔امتی نبی تو ہونے والا تھا مگر صاحب سیاست اور مستقل نبی نہیں۔مولوی خالد محمود صاحب کا اس حدیث سے یہ مراد لینا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی امتی نبی بھی نہیں آئے گا۔(عقیدۃ الامۃ صفحہ ۴۱ ) ایک خیال باطل ہے۔کیونکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کو اپنے بعد نبی بھی قرار دیا ہے اور امتی بھی۔پس یہ حدیث حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے خلاف پیش نہیں ہو سکتی جو مسیح موعود ہونے کے مدعی ہیں۔مسیح موعود کو تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امتی نبی قرار دیا ہے۔چوتھی حدیث چوتھی حدیث مولوی خالد محمود صاحب نے انقطاع نبوت کے ثبوت میں یہ پیش کی ہے:۔" مَثَلِيْ وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنِي بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَاَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَا يَاهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوْفُوْنَ بِهِ وَيُعْجِبُوْنَ مِنْهُ وَيَقُوْلُوْنَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَانَا اللَّبنَةُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ۔66 (صحیح مسلم جلد ۲ صفحه ۲۴۸ صحیح بخاری جلد اصفحه ۵۰۱۔مسند احمد جلد صفحہ ۴۹۸- جامع ترمذی جلد ۲ صفحه ۵۴۴) ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری اور مجھ سے پہلے انبیاء