مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 159
تیسری حدیث (109) مقام خاتم انا تیسری حدیث مولوی خالد محمود صاحب نے انقطاع نبوت کے متعلق یہ پیش کی ہے کہ كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيْلَ تَسُوْسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٍّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَأَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَيَكُوْنُ خُلَفَاءُ فَيَكْفُرُوْنَ قَالُوْا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ فُوْا بَيْعَةَ الْأَوَّلِ فَالْاَوَّلِ الحديث ترجمہ از خالد محمود صاحب:۔( صحیح بخاری جلد اصفحه ۴۹ صحیح مسلم جلد ۲ صفحه ۲۸۶ و مسند احمد جلد ۲ صفحه ۲۹۷) بنی اسرائیل کی سیاست خود اُن کے انبیاء کیا کرتے تھے۔جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے نبی کو اس کے بعد بھیج دیتے۔لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔البتہ خلفاء ہوں گے۔اور بہت ہوں گے۔صحابہ نے عرض کیا کہ آپ ان کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں تو آپ نے ارشاد فرمایا۔خلیفہ اول سے وفا کرو اور یکے بعد دیگرے ہر خلیفہ سے وفا کرنا۔( عقيدة الامت صفحه ۴۰ ) اس حدیث کا نتیجہ مولوی خالد محمود صاحب یہ بیان کرتے ہیں:۔اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اس اُمت میں ایسے نبی نہیں ہوں گے جیسے بنی اسرائیل کی سیاست کے لئے آتے تھے۔“