مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 158
(IDA) مقام خاتم است ثابت بود و از حضرت مرتضی آنرا استثناء کنند۔پس حاصل این است که حضرت موسی در ایام غیبت خود حضرت ہارون را خلیفه ساخت و حضرت ہارون از اہل بیت حضرت موسی بودند و جامع بودند در نیابت و اصالت در نبوت و حضرت مرتضی مثل حضرت ہارون است در بودن از اہل بیت پیغمبر 66 و در نیابت نبوت بحسب احکام متعلقہ حکومت مدینہ نہ در اصالت نبوت۔“ (قرة العينين في تفصيل الشيخيين صفحه ۲۰۶) ترجمہ: بعدیت زمانی اس لئے مراد نہیں کہ حضرت ہارون حضرت موسی کے بعد زندہ نہیں رہے تھے کہ حضرت علیؓ کے لئے بعد یت زمانی ثابت ہو اور حضرت علیؓ سے اس بعدیت کا استثناء کریں۔پس حاصل مطلب یہ ہے کہ حضرت موسی نے طور پر غیر حاضری کے زمانہ میں حضرت ہارون کو اپنا خلیفہ بنایا اور حضرت ہارون موسیٰ کے اہلِ بیت میں سے تھے اور خلافت اور نبوت مستقلہ دونوں کے جامع تھے۔اور حضرت علی پیغمبر علیہ الصلواۃ والسّلام کے اہلِ بیت میں سے تھے۔اور آپ کی نبوت میں ان احکام میں نائب تھے جو مدینہ منورہ کی حکومت سے متعلق تھے نہ کہ نبوت مستقلہ میں۔“ پس اس حدیث میں لا نبی بعدی کے معنی حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کے نزدیک یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اے علی تو غزوہ تبوک پر میری غیر حاضری میں مدینہ کی حکومت کے انتظام کے لئے میرا خلیفہ ہے جس طرح حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے طور پر جانے کے بعد اُن کے خلیفہ تھے۔لیکن اس عرصہ غیر حاضری میں میرے سوا کوئی نبی نہیں۔