مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 147 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 147

66 بَشَرْعٍ يَنْسَخُ شَرْعَهُ۔“ مقام خاتم انا (الاشاعة في اشراط الساعة صفحه ۲۲۶) یہی مضمون اقتراب الساعة کے صفحہ ۱۶۲ میں یوں مذکور ہے:۔" لَا نَبِيَّ بَعْدِی آیا ہے جس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ کوئی نبی شرع ناسخ نہیں لائے گا۔“ پھر حضرت امام القاری خاتم النبیین کے معنی یہ بیان فرماتے ہیں:۔" 66 الْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَأْتِي بَعْدَهُ نَبِيٌّ يَنْسَخُ مِلَّتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِهِ۔“ (موضوعات کبیر صفحه ۵۸) یعنی خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہو سکتا جو آپ کے دین کو منسوخ کرے اور آپ کی اُمت میں سے نہ ہو۔گویا اُمت کے اندر ایسے نبی کا آنا جو ناسخ شرع محمد یہ نہ ہو آیت خاتم النبیین اور حديث لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے خلاف نہیں۔پس اُمّت میں سے جن کذاب دقبال مدعیان نبوت کا ذکر حدیث بالا میں ہے اُن سے وہی مدعیانِ نبوت مراد ہیں جو تشریعی اور مستقلہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے تھے۔اُمتِ محمدیہ کا مسیح موعود تو امتی نبی ہے نہ کہ صرف نبی۔وہ تو ان دجالوں میں خالد محمود صاحب کے نزدیک بھی شمار نہیں ہوسکتا۔اسی لئے کہ وہ نہ تشریعی نبی ہے نہ مستقل نبی بلکہ امتی نبی ہے۔پس مسیح موعود کے لئے امت محمدیہ میں ایک جدید قسم کی نبوت کا وجود میں آنا انہیں مسلّم ہے جو نیا امتی نبی پیدا ہونے کے مترادف ہے۔