مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 137
(irz) مقام خاتم النی <mark>محمد</mark>ی کی پوری تشریح اور دوسرا نسخہ ہوگا۔کہاں اس کا مقام اور کہاں محض امتی کا مقام۔دونوں میں عظیم الشان فرق ہے۔نتين اس عبارت میں حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمتہ نے مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ سلم کے اسم جامع <mark>محمد</mark>ی کی شرح اور آپ کا ہی نسخہ منفتحہ یعنی کامل بروز وظل قرار دیا ہے۔۔اپنا یہی ظلی اور <mark>بروزی</mark> مقام حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے زیر بحث عبارتوں میں بیان فرمایا ہے ورنہ نہ حضرت شاہ صاحب کا یہ مقصد ہے کہ امت <mark>محمد</mark>یہ کا مسیح موعود تشریعی <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark> ہے اور نہ حضرت بانئی سلسلہ احمدیہ یہ بتا رہے ہیں کہ آپ مسند <mark>شریعت</mark> <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark> ہیں۔حضرت مولا نا <mark>محمد</mark> قاسم صاحب علیہ الرحمتہ تو یہانتک لکھتے ہیں کہ "اگر ظن اور اصل میں تساوی بھی ہو تو کچھ حرج نہیں کیونکہ افضلیت بوجہ اصلیت پھر بھی ادھر (اصل خاتم ال<mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>ین کی طرف ) ہی رہے گی۔“ ( تحذیر الناس صفحہ ۳۰) ظلت کے کمالات تو اصل کی طرف ہی منسوب ہوتے ہیں۔چنانچہ حضرت مولانا موصوف تحریر فرماتے ہیں:۔جیسے آئینہ میں عکس زمین کی دُھوپ کا عکس آفتاب کا طفیلی ہے اور اس وجہ 66 سے آفتاب کی طرف منسوب ہونا چاہئیے۔“ ( تحذیر الناس صفحہ ۳۰) حضرت مجد دالف <mark>ثانی</mark> علیہ الرحمۃ فنافی الرسول کی کیفیت میں لکھتے ہیں:۔کمل تابعان ا<mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>اء بجہت کمال متابعت و فرط محبت بلکه بمحض عنایت و