مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 133
(۱۳۳ ۳۔تیسرا نیا قانون بزعم خود خالد محمود صاحب یہ پیش کرتے ہیں کہ اسلامی شریعت میں فرضی صدقات زکوة و عشر وغیرہ تھے۔مگر مرزائی شریعت میں ایک ماہواری چندہ بھی فرض ہے۔“ ( عقيدة الامة صفحه ۲۹) اس چندہ کو فرض ثابت کرنے کے لئے خالد محمود صاحب لوح الہدیٰ صفحہ ا کی مندرجہ ذیل عبارت پیش کرتے ہیں :۔ہر شخص کو چاہیے کہ اس نئے نظام کے بعد نئے سرے سے عہد کر کے اپنی خاص تحریر سے اطلاع دے کہ وہ ایک فرض حتمی کے طور پر اس قدر چندہ ماہواری بھیج سکتا ہے مگر چاہئیے کہ فضول گوئی اور دروغ کا برتاؤ نہ کرے۔ہر ایک جو مرید ہے اُس کو چاہیے کہ اپنے نفس پر کچھ ماہواری رقم مقرر کر دے خواہ ایک پیسہ ہو خواہ ایک دھیلہ اور جو شخص کچھ بھی مقرر نہیں کرتا اور نہ جسمانی طور پر اس سلسلہ کے لئے کچھ بھی امداد دے سکتا ہے وہ منافق ہے۔اب اس کے بعد وہ سلسلہ میں نہیں رہ سکے گا۔“ اشتهر مرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیان) لوح الہدی صفحه ا اس عبارت کے جلی الفاظ سے ہر سلیم الفطرت انسان فور اسمجھ سکتا ہے کہ یہ چندہ زکوۃ اور عشر کی طرح خدا کی طرف سے مقرر کردہ فرض حتمی قرار نہیں دیا گیا بلکہ مُریدوں سے یہ خواہش کی گئی ہے کہ وہ کچھ رقم بطور ماہواری چندہ کے اپنے نفس پر خود مقرر کریں۔خواہ ایک پیسہ بلکہ ایک دھیلہ ہی ہو۔اسلام میں جو ز کوۃ اور محشر فرض ہے اس کی مقدار واجب تو