مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 123 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 123

۱۲۳ مقام خاتم السنة مولوی خالد محمود صاحب نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو تشریعی نبی“ دکھانے کے لئے تیسری تبدیلی کے ذیل میں ہی آپ کی یہ عبارت پیش کی ہے کہ اگر کہو کہ صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ کہ ہر ایک مفتری تو اول تو دعوی بلا دلیل ہے۔خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے قانون مقرر کیا۔وہی صاحب شریعت ہو گیا۔پس اس تعریف کی وجہ سے بھی 66 ہمارے مخالف ملزم ہیں۔کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“ (اربعین نمبر ۴ صفحه ۶ ) واضح ہو کہ اربعین ۱۹۰۰ ء کی کتاب ہے جبکہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اپنے آپ کو امتی نبی بمعنی محدث قرار دیتے تھے۔اور ابھی اپنے عقید ہ نبوت میں آپ نے کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی تھی۔اور نبی اور رسول کے اصطلاحی معنے یہ قرار دیتے تھے کہ وہ کامل شریعت یا احکامِ جدیدہ لاتے ہیں۔یا کسی دوسرے نبی کے امتی نہیں کہلاتے اور بلا استفادہ کسی نبی کے خدا تعالے سے تعلق رکھتے ہیں۔(ملاحظہ ہو مکتوب ۷/ اگست ۱۸۹۹ء) اور یہ تعریف لکھنے کے بعد لوگوں کو اس غلط فہمی سے بچانے کے لئے کہ آپ اس معروف اصطلاح میں اسی نبوت کے مدعی ہیں۔آگے لکھا ہے:۔ہوشیار رہنا چاہئیے کہ اس جگہ یہی معنے نہ سمجھ لیں کیونکہ ہماری کتاب بجز قرآن کریم کے نہیں ہے اور کوئی دین بجز اسلام کے نہیں۔اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور