مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 118
(۱۱۸ خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرو گے اور اس کے قدیم قانون کو توڑ دو گے۔“ (لیکچر سیالکوٹ صفحه ۳۲) مندرجہ بالا تمام حوالہ جات میں کسی دوسری تبدیلی کا ذکر نہیں بلکہ یہ صرف پہلی تبدیلی کا ہی ثبوت ہیں۔چنانچہ ان عبارتوں میں حضرت مرزا صاحب نے اپنے آپ کو کسی جگہ بھی تشریعی یا مستقل نبی قرار نہیں دیا۔بلکہ ان سب کتابوں میں جن کے حوالہ جات مولوی خالد محمود صاحب نے دیئے ہیں آپ نے اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بھی قرار دیا ہے۔چنانچہ حقیقۃ الوحی ہی کی عبارت خود خالد محمود صاحب قبل از میں پیش کر چکے ہیں۔اس میں صاف مذکور ہے کہ :۔اس امت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے اور ایک وہ بھی ہو ا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔“ ( حاشیہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۸۔عقیدۃ الامۃ صفحه ۲۳) پس اوپر کی عبارتوں کو کسی دوسری تبدیلی پر محمول کرنا محض غلط بیانی اور مغالطہ دہی ہے۔پھر مولوی خالد محمود صاحب نے بزعم خود تیسری تبدیلی کے ثبوت میں ذیل کی عبارتیں پیش کی ہیں۔چنانچہ وہ صاحب الشریعت ہونے کے دعوئی کے عنوان کے تحت پہلے تریاق القلوب کی یہ عبارت پیش کرتے ہیں:۔یہ نکتہ یادر کھنے کے قابل ہے کہ اپنے دعوی کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف اُن نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکامِ جدیدہ لاتے ہیں۔لیکن صاحب شریعت ہونے کے ماسوا جس قدر اہم اور محدث ہیں