مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 117
(112) مقام خاتم است میں دوسر اشعر اس محل پر موجود نہیں۔بلکہ ترتیب یوں ہے:۔آنچه دادست ہر نبی راجام داد آن جام را مرا بتمام انبیاء کرچه بوده اند بسے من بعرفاں نہ کمترم زکسے آں یقینے کہ خُود عیسی را بر کلام که شد برو القاء واں یقین کلیم بر تورات واں یقینہائے سید السادات کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں ہر کہ گوید دروغ ہست لعیں اس ترتیب میں آخری شعر میں یہ بتا رہے ہیں کہ مجھے اپنی وحی کے خدا کی طرف سے ہونے پر ایسا ہی یقین حاصل ہے جیسا کہ تمام انبیاء کو۔لیکن خالد محمود صاحب نے ترتیب بدل کر خطر ناک تحریف سے کام لیتے ہوئے حضرت مرزا صاحب کے خلاف یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ آپ اپنے آپ کو سب نبیوں سے درجہ میں برابر قرار دیتے ہیں۔حالانکہ آپ نے صرف یہ کہا ہے کہ آپ عرفانِ الہی اور اپنی وحی پر یقین رکھنے میں کسی دوسرے نبی سے کم نہیں۔ے۔انہیں اُمور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے تو میں کیونکر 66 اس سے انکار کر سکتا ہوں۔“ تنلیغ رسالت جلده اصفحه ۱۳۳) ” ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ پر پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتا بعد وقت آتے رہیں جن سے تم وہ نعمتیں پاؤ گے۔اب کیا تم