مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 109 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 109

(1+9) مقام خاتم ان تشریعی نبی یا مستقل نبی کے لئے ہی سلسلہ خلافت محمدیہ میں آنا ممتنع قرار دیا ہے کیونکہ اسی کتاب کے صفحہ 9 پر آپ اپنے آپ کو خدا کا رسُول قرار دیتے ہیں۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔” خدا تعالی بہر حال جب تک طاعون دُنیا میں رہے گوستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسُول کا تخت گاہ ہے۔اور تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“ اور صفحہ ۱۰ پر تحریر فرماتے ہیں:۔66 سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“ ( دافع البلاء صفحہ ۱۰) تعجب ہے کہ مولوی خالد محمود صاحب نے دافع البلاء صفحہ ۱۹ کی عبارت تو اس بات کے ثبوت میں پیش کی ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ کسی نئے یا پرانے نبی کا آناجائز نہیں سمجھتے مگر آگے چل کر عقیدۃ الامۃ صفحہ ۲۴، ۲۵ پر انہوں نے دافع البلاء کے صفحہ ۹ اسے پہلے صفحہ ۱۰٫۹ کی یہ مذکورہ بالا عبارتیں آپ کے عقیدہ میں پہلی تبدیلی کے ثبوت میں پیش کر دی ہیں۔چه دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد قارئین کرام خود غور فرمالیں کہ کیا مولوی خالد محود صاحب نے ایسا کرنے میں تقویٰ اور دیانت داری کو پیش نظر رکھا ہے۔حضرت مرزا صاحب جب اسی کتاب کے صفحہ ۹، ۱۰ پر اپنے آپ کو خدا کا رسول قرار دے رہے ہیں تو صفحہ 19 کی عبارت کا پھر یہ مفہوم کیسے لیا جاسکتا ہے کہ ہر پہلو سے نبی کے آنے کو سلسلہ خلافت محمدیہ میں ممتنع قرار دیا گیا ہے۔پس صاف ظاہر ہے کہ صفحہ ۱۹ کی عبارت میں تشریعی اور مستقل نبی اور رسول کے آنے کو ہی سلسلہ