مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 108 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 108

(IA) مقام خاتم السنة السلام کی دوبارہ آمد کو محال ثابت کرنے کے لئے تحریر کی گئی ہے۔چونکہ مسلمانوں کے نزدیک وہ تشریعی نبی ہیں لہذا اگر وہ دوبارہ آئیں اور اُن پر گو قرآن مجید کا ہی دوبارہ نزول ہو تو اس سے ایک نئی کتاب اللہ ( نئی کتاب شریعت ) کا آنا لازم آئے گا۔کیونکہ مستقل نبی پر جو اوامر و نواہی نازل ہوں گے وہ بھی مستقل شریعت کا حکم رکھیں گے جیسے که قرآن مجید میں نازل شدہ سابقہ شریعتوں کے احکام جو قرآن مجید میں قائم رکھے گئے ہیں مستقل وحی نبوت کی حیثیت ہی رکھتے ہیں۔پس حضرت عیسی علیہ السلام کا جنہیں مسلمان مستقل تشریعی نبی تسلیم کرتے ہیں اس حیثیت میں آنا ستلزم محال ہے کہ اُن پر قرآن مجید کے اوامر و نواہی نازل ہوں۔کیونکہ یہ امر ایک نئی کتاب اللہ نازل ہونے کے مترادف ہوگا۔اور تشریعی نبی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنا آیت خاتم النبیین کی موجودگی میں جائز نہیں۔ہاں امتی نبی پر اگر کوئی قرآنی حکم یا نہی دوبارہ نازل ہو تو اس کا تشریعی نبی ہونالازم نہیں آئے گا۔کیونکہ وہ مستقل نبی نہیں بلکہ ان اوامر ونواہی کا نزول بطور تجدید دین کے ہوگا کیونکہ اُمتی نبی تشریعی نبی اور مستقل نبی ہو ہی نہیں سکتا۔بلکہ تجدید دین کے لئے ہی مامور ہوسکتا ہے۔کی ہے کہ اس کے بعد مولوی خالد محمود صاحب نے رسالہ دافع البلاء صفحہ ۱۹ کی یہ عبارت پیش و ختمیت نبوت یعنی یہ کہ سلسلہ خلافت محمد یہ میں اب کوئی بھی نیا یا پرانا زندہ موجود نہیں۔اور تمام سلاسل نبوتوں بنی اسرائیل کے ہمارے حضرت پر ختم ہو چکے ہیں۔اب کوئی نبی نیا یا پر انا بطور خلافت کے بھی نہیں آسکتا۔“ دافع البلاء صفحہ ۱۹ کی اس عبارت میں بھی حضرت مرزا صاحب نے نئے یا پرانے