مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 106 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 106

(1+1) مقام خاتم السنة الفاظ اب بھی لکھے ہوئے ہیں اور صفحہ ۴۷۸ پر مسیح الزمان وغیرہ کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔یہ کتاب ۱۸۹۱ء کی تصنیف ہے۔“ ( عقيدة الامة حاشیہ صفحہ ۱۹) ان کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت مرزا صاحب اس زمانہ میں بھی اپنے آپ کو مرسلین میں شمار کرتے تھے۔پس خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ نے ایسے مرسل ہی کا آنا نا جائز قرار دیا ہے جو تشریعی رسالت کا مدعی ہو۔جز ئی نبی یا رسول کا آنا اس وقت آپ نے ممتنع قرار نہیں دیا۔بلکہ ازالہ اوہام میں صاف لکھا ہے:۔اس جگہ بڑے شبہات یہ پیش آتے ہیں کہ جس حالت میں مسیح ابنِ مریم اپنے نزول کے وقت کامل طور پر امتی ہوگا تو پھر وہ با وجود امتی ہونے کے کسی طرح رسُول نہیں ہوسکتا۔کیونکہ رسُول اور اُمتی کا مفہوم متبائن ہے اور نیز خاتم النبیین ہونا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ہاں ایسا نبی جو مشکوۃ نبوت محمد یہ سے نور حاصل کرتا ہے۔اور نبوت تامہ نہیں رکھتا جس کو دوسرے لفظوں میں محدث بھی کہتے ہیں وہ اس تحدید سے باہر ہے۔کیونکہ وہ باعث اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے جیسے جو گل میں داخل میں ہوتی ہے۔لیکن مسیح ابن مریم جس پر انجیل نازل ہوئی جس پر جبریل کا بھی نازل ہونا ایک لازمی امر سمجھا گیا ہے کسی طرح اُمتی نہیں بن سکتا۔کیونکہ اس پر وحی کا اتباع فرض ہوگا جو وقتا فوقتنا اس پر نازل