مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 88
مقام <mark>خاتم</mark> است ہوں یا چھپے ہوئے اور گناہ کو اور ناحق بغاوت کو حرام کیا ہے۔اور اس بات کو (بھی) کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دو۔اور اس بات کو بھی ( حرام کیا ہے ) کہ تم اللہ پر ایسے جھوٹے الزام لگاؤ جن کو تم نہیں جانتے۔ہر قوم کے لئے ایک ( <mark>خاتم</mark>ہ ) کا وقت مقرر ہے۔پس جب وہ وقت مقررہ آجاتا ہے تو نہ اس سے ایک گھڑی پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔“ اس کے بعد زیر بحث آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”اے بنی آدم اگر آئیندہ تم میں سے تمہارے پاس رسول آئیں جو تم پر میری آیات بیان کریں تو جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے اور اصلاح کر لیں گے انہیں نہ ( آئیندہ کے متعلق) کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ (ماضی کے متعلق ) غمگین ہوں گے۔“ پس زیر بحث آیت کا سیاق اس بات پر روشن دلیل ہے کہ یہ خطاب عالم ارواح سے نہیں کہ عالم ارواح کے واقعہ کی اس جگہ حکایت کی گئی ہو۔بلکہ جس طرح اس سے پہلی آیات میں بنی آدم کو اس دُنیا کے عالم میں خطاب کیا گیا ہے۔اسی طرح زیر بحث آیت کا خطاب بھی اہلِ دُنیا سے ہے نہ کہ عالم ارواح سے۔اب دیکھ لیجئے کہ احمدی اس آیت سے نبوت کے جاری ہونے کے متعلق ناجائز سہارا لے رہے ہیں یا خود مولوی خالد محمود صاحب بے بسی کے عالم میں یہ کہہ کر ہمارے استدلال کو ٹالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کہ اس آیت میں خطاب عالم ارواح سے ہے اور یہ کہ اس میں پچھلے <mark>نبی</mark>وں کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ہم اس امر کا فیصلہ قارئین کرام پر ہی