مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 87
مقام خاتم ان ہے يبَنِي آدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف ۳۲) یعنی اے بنی آدم ہر مسجد کے پاس یا عبادت کے وقت لباس کے ذریعہ زینت اختیار کر لیا کرو۔اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ اہلِ عرب خانہ کعبہ کا تو اف ننگے بدن کیا کرتے تھے۔اس لئے انہیں یہ حکم دیا گیا کہ اس وقت لباس پہن لیا کرو۔امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ تفسیر اتقان میں اسی آیت کے متعلق فرماتے ہیں:۔خِطَابٌ لِاهْلِ ذَلِكَ الزَّمَانِ وَلِكُلِّ مَنْ بَعْدَ هُمْ یعنی یہ آیت اس زمانہ کے لوگوں اور تمام بعد میں آنے والے لوگوں کو خطاب ہے۔پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی ہے:۔كُلُوا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ۔(الاعراف ۳۲) یعنی تم کھاؤ اور پیو اور فضول خرچی نہ کرو بیشک اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے چند آیات میں فرمایا ہے جن کا ترجمہ یہ ہے کہ ” (اے نبی ) کہد واللہ کی زینت اور پاک رزق جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے کس نے حرام کیا ہے۔کہدو یہ دنیا کی زندگی میں مومنوں کے لئے ہے اور قیامت کے دن صرف انہی لوگوں کے لئے ہے۔اس طرح ہم اپنی آیات اُن لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں کھول کر بیان کرتے ہیں۔تو کہہ دے میرے ربّ نے بُرے اعمال کو خواہ ظاہر