مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 86
(AY) مقام خاتم النی نتين خاتم ال<mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>ین کی آیت کی رُو سے رسولوں کا آنا گلیہ منقطع ہو چکا ہوتا تو اللہ تعالے قرآن مجید میں ایسی ہدایت نہ دیتا کہ اگر آئیند ہ رسول آئیں تو اُن کو قبول کرنا چاہیئے۔آیت مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ الخ سے ظاہر ہے کہ آئیند ہ <mark>نبوت</mark> پانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت شرط ہے۔پس یہ رسول جن کے آئیند ہ آنے کا زیر تفسیر آیت میں ذکر ہے اُن کے لئے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع اور اقتی ہونا پہلی آیت کی رُو سے ضروری ہے۔مولوی خالد محمود صاحب کی جرح کا <mark>امر</mark>اوّل مولوی خالد محمود صاحب نے اس آیت کے متعلق پہلی جرح یہ کی ہے کہ یہ ا۔ایک عالم ارواح سے خطاب ہے۔“ ۲۔قادیانی حضرات کی انتہائی بے بسی اور بے چارگی ہے کہ مسئلہ ختم <mark>نبوت</mark> زیر بحث آنے پر وہ ا<mark>نہی</mark> آیات کا سہارا لیتے ہیں جن میں <mark>کس</mark>ی سابقہ وقت کے پچھلے <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>وں کے آنے کی خبر قرآن کریم میں حکایت کی گئی ہے۔“ (عقیدۃ الامۃ صفحہ ۱۰ و ۱۱) الجواب مولوی خالد محمود صاحب کا بیان درست <mark>نہی</mark>ں کہ اس آیت میں عالم ارواح سے خطاب بطور حکایت کیا گیا ہے۔چنانچہ زیر بحث آیت يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيْنَكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ سے پہلے ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا